تحفظ اول

‘یہ کہ اقدامات قومی جنگلات کے پروگراموں اور متعلقہ بین الاقوامی کنونشنوں اور معاہدوں کے مقاصد سے مطابقت رکھتے ہیں’۔

+UNFCCC REDD تحفظ اول کے بارے میں پاکستان کی وضاحت: ‘+REDD حکمت عملی پاکستان کے قومی جنگلات کے پروگراموں کے مقاصد اور متعلقہ بین الاقوامی کنونشنز اور معاہدوں کے مجوزات کے مطابق بنائ گئ ہےجنمیں پاکستان شمولیت اختیار کر چکا ہے۔’

متعلقہ PLRs جو +REDD تحفظات پرعملدرآمد کو یقینی بنانے کے لئے استعمال کیے جاسکتے ہیں۔

·  اگرچہ قومی جنگلات کے پروگراموں کے مقاصد کے مطابق نئی پالیسیوں، پروگراموں یا منصوبوں (+REDD سمیت) کے لئے کوئی مخصوص قانونی شرط موجود نہیں ہے، تاہم جنگلات کے PLRs اور فاریسٹ ایکٹ، پاکستان میں جنگلات کی ترقی کے لئے حالات قائم کرنے کا تقاضا کرتے ہیں .

·   تمام +REDD  اقدامات اور سرمایہ کاریوں کا متعلقہ PLRs کے ساتھ منطبق ہونا ضروری ہے بشمول فاریسٹ ایکٹ، خیبر پختونخواہ فاریسٹ آرڈیننس، پاکستان ماحولیاتی تحفظ ایکٹ، اور پاکستان موسمیاتی تبدیلی ایکٹ، جس میں پاکستان کے جنگلات کے تحفظ، نگرانی، انتظام اور پائیدارترقی سے متعلق مخصوص اہداف شامل ہیں۔

پاکستان 14  متعلقہ بین الاقوامی کنونشنوں اور معاہدوں میں شامل ہے جن کو تسلیم کرنے اور عملدرآمد سے ان تحفظات کے اطلاق میں مدد ملتی ہے:

·  عالمی تحفظ نباتیات کنونشن (روم،1951)

·  جنوبی مشرقی ایشیاء اوربحرالکاہل کے علاقے کے لئے تحفظ نباتیات کا معاہدہ (ترمیم شدہ)، (روم،1956)

·  جنوب مغربی ایشیا میں صحرا ئ ٹڈی دل کو اسکے پھیلاؤ کے مشرقی علاقہ میں کنٹرول کرنے کے لئےکمیشن قائم کرنے کامعاہدہ (ترمیم شدہ) (روم، 1963)

·   بین الاقوامی اہمیت کی جھیلوں کے بارے میں کنونشن، خاص طور پرپانی سے رغبت رکھنے والے پرندوں کےمسکن (رامسر، 1971) اور اس کے ترمیمی پروٹوکول (پیرس، 1982)

·  عالمی ثقافتی اور قدرتی ثقافتی ورثہ کے تحفظ کے بارے میں کنونشن ( ورلڈ ہیریٹیج کنونشن) (پیرس، 1972)

·   جنگلی حیوانات و نباتات کی کمزور پرجاتیوں کی بین الاقوامی تجارت پر کنونشن (CITES) (واشنگٹن،1973)

·   نقل مکانی کرنے والےجنگلی جانوروں کے تحفظ کے بارے میں کنونشن (بون، 1979)

·   سمندر کے قانون پر کنونشن (مونٹیگو بے، 1982(

·  اوزون کی پرتوں کے تحفظ کے لئے ویانا کنونشن (ویانا، 1985)

· اوزون پرت کو نقصان پہنچانے والےمادوں کے بارے میں مونٹریال پروٹوکول (مونٹریال، 1987 ) اورمتعلقہ ترامیم

·   ایشیا اور بحرالکاہل میں آب کاشتی مراکز کے نیٹ ورک پر معاہدے (بینکاک، 1988)

·   خطرناک فضلہ کی سرحدپار  نقل و حرکت پر قابو پانے اوراسکو ٹھکانے لگانے کے بارے میں کنونشن (بیسل، 1989)

·   حیاتیاتی تنوع کے بارے میں کنونشن (ریو ڈی جینرو، 1992)

اقوام متحدہ کا موسمیاتی تبدیلی پر فریم ورک کنونشن  (ریو ڈی جینرو، 1992)

تحفظ دوم

‘ قومی قانون سازی اور حاکمیت کو مد نظر رکھتے ہوے قومی جنگلات کا شفاف اور مؤثر انتظامی ڈھانچہ’۔

+UNFCCC REDD  تحفظ دوم کے بارے میں پاکستان کی وضاحت: ” قومی +REDD حکمت عملی پر عملدرامد کے سلسلے میں جنگلات کے انتظامی ڈھانچے کی شفافیت اور اثرانگیزی، بشمول معلومات، احتساب، انصاف تک رسائی، صنفی مساوات اور زمین کے استعمال کے حقوق کو ملک کے متعلقہ PLRs کے ذریعےفروغ اور قانوی تحفظ دیا گیا ہے.”

متعلقہ PLRs جو +REDD تحفظات پرعملدرآمد کو یقینی بنانے کے لئے استعمال کیے جاسکتے ہیں۔

  معلومات تک رسائی کا حق پاکستان کے قومی آئین (آرٹیکل 19-اے) کے تحت ایک مسلمہ حق ہے۔مزید برآں مجوزہ +REDD اقدامات پر عملدرآمد کے دوران کئی PLRs بھی نافذالاعمل ہوتے ہیں، بشمول خیبر پختون خواہ معلومات کےحق کا ایکٹ (سیکشن 2 (ای)، 2013)، سندھ شفافیت اور معلومات کےحق کا بل / ایکٹ (سیکشن 2 (ای)، 2016)،معلومات کی آزادی کا آرڈیننس اور معلومات کی آزادی کا ایکٹ 2005، پنجاب شفافیت اور معلومات کے حق کا ایکٹ 2013 ، سندھ شفافیت اور معلومات کے حق کا ایکٹ 2016 .

·  پارلیمان کے مخصوص ایکٹس کے تحت، تمام سرکاری ادارے ایک افسر نامزد کرنے کے پابند ہیں جو معلومات کے افشاء سے متعلق افراد کی درخواستوں کے تصفیہ کا اختیار رکھتاہو. افسر کے فیصلے سے غیر متفق شخص اپنی شکایت کےازالے کے لۓ متعلقہ محتسب سے رابطہ کر سکتا ہے. مزید برآں پاکستان ماحولیاتی تحفظ ایجنسی کوماحولیاتی معاملات پر عوام کو معلومات اور رہنمائی فراہم کرنے کا اختیار سونپا گیا ہے.

·    قومی احتساب آرڈیننس 1999کی ذریعےاحتساب کے عمل پر قانون سازی کی گئ ہے. اس کے علاوہ، موسمیاتی تبدیلی اتھارٹی کی کی شفافیت، احتساب کو برقرار رکھنے کیلیے ترقی کی رپورٹوں پر مبنی سالانہ آڈٹ اکاؤنٹس اور کارکردگی کا جائزہ فراہم کرے گی (پاکستان موسمیاتی تبدیلی ایکٹ، 2017 کا سیکشن 13 (4)۔

·    پاکستان کا آئین آرٹیکل 23 کے تحت ضمانت دیتا ہے کہ ہر شہری کو پاکستان کے کسی بھی حصے میں جائیداد کی ملکیت حاصل کرنے، رکھنے اور بیچنےکا حق حاصل ہے، تاہم آئین کے تابع اور عام مفاد میں قانون کی طرف سے نافذ مناسب پابندیاں اس پر لاگو ہوں گی. آئین پاکستان زمین / وسائل کے حصول کی صورت میں مناسب معاوضہ کی ادائیگی کی بنیادبھی فراہم کرتاہے (آرٹیکل 24).

·    جنگل سے متعلقہ قوانین (فاریسٹ ایکٹ، 1927 کا سیکشن 11، اور خیبر پختونخواہ کے فاریسٹ آرڈیننس2002 کا سیکشن 23) پاکستان میں ریاستی وادیوں پر مقامی آبادی کے گزرنے ، پانی اور لکڑی کے حصول کےحقوق کو بھی یقینی بناتا ہے.

·   پاکستان کا آئین (آرٹیکل 38) فائدے کی تقسیم کے انتظامات کے وسیع تر خدوخال بتاتاہے جن پر عملدرآمدکیاجائےگا.
·   آئین کے آرٹیکل 25 نے صنفی مساوات اور تمام اقتصادی سرگرمیوں میں حصہ لینے کے لئے خواتین کے شہری حق  کوتسلیم کیا ہے (آرٹیکل 34). قومی جنگلات کے مخصوص PLRs میں اسکی مزید وضاحت اور حوصلہ افزائی کی گئ ہے (خیبر پختونخواہ فاریسٹ آرڈیننس، 2002 کا سیکشن 99 (3)).
·   پاکستان کا آئین اس بات کا یقین دلاتاہے کہ قانون کی حفاظت سے فائدہ اٹھانے اور قانون کے مطابق مساوی سلوک ہر شہری کا ناقابل تردید حق ہے. شہری حقوق اور ذمہ داریاں یا اس کے خلاف کسی بھی مجرمانہ الزام کے تعین کے لئے ہر شخص منصفانہ آزمائش اور قانونی عمل کا حقدار ہے (پاکستان کے آئین کا آرٹیکل 4 اور 1937A  -10)۔    اس کے علاوہ اپیل کا ایک طریقہ کار بھی فراہم کیا گیا ہے (جنگلات کے ایکٹ1927 کے مطابق، جنگل آفیسر یا جنگل تصفیہ آفیسر کی طرف سے منظور آرڈر سے متعلق کوئ بھی شخص ضلعی  آفیسر آمدنی / جنگل سے متعلقہ عدالت میں ایک اپیل کرسکتا ہے. اس کے بعد بھی وہ شخص اگر جنگل سے متعلقہ عدالت کے حکم سے مطمئن نہیں ہے تو وہ قانون کے تحت ایک نظرثانی کی درخواست دے سکتا ہے. فاریسٹ ایکٹ، 1927 کا سیکشن 59)۔
·         پاکستان ماحولیاتی تحفظ ایکٹ کسی بھی منصوبے کے متوقع ماحولیاتی اثرات کی تشخیص اور وفاقی ایجنسی کی منظوری (ماحولیاتی تحفظ ایکٹ، 1997) کو ضروری قرار دیتا ہے. قانون کے مطابق متعلقہ ایجنسی کیلیےتمام منصوبوں کی باقاعدگی سے ماحولیاتی نگرانی کرنا ضروری ہے جنکی اس نے ابتدائی ماحولیاتی جانچ یا ماحولیاتی اثرات کی تشخیص کی منظوری دی ہو تاکہ اس بات کا تعین کیا جائے کہ حقیقی ماحولیاتی اثرات پیش گوئی کی سطح سے زیادہ تو نہیں اور کیا منظوری کی شرائط کی تعمیل کی جا رہی ہے (سندھ ماحولیاتی تحفظ ایکٹ، 2014، سیکشن 19).
تحفظ سوم

‘مقامی بین الاقوامی ذمہ داریوں، قومی حالات اور قوانین کو پورا کرتے ہوئے، دیسی باشندوں اور مقامی آبادی کے ارکان کے علم اور حقوق کا احترام کیونکہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے دیسی آبادی کے حقوق پر اقوام متحدہ کے اعلامیے کو قبول کیا ہے’۔

+UNFCCC REDD  تحفظ سوم کے بارے میں پاکستان کی وضاحت: ‘متعلقہ PLRs کے مطابق مقامی اور قبائلی آبادی کے حقوق کی شناخت، اور احترام کو قومی +REDD حکمت عملی پرعملدرآمد پر لاگو کیا جاتا ہے؛ جس میں غیر امتیازی سلوک، روایتی علم اور ثقافت، حق خود ارادی، فائدہ اٹھانے اور اجتماعی کرایہ داری کے حقوق شامل ہیں’ ۔

متعلقہ PLRs جو +REDD تحفظات پرعملدرآمد کو یقینی بنانے کے لئے استعمال کیے جاسکتے ہیں۔

·   پاکستان نے 1960 ء میں قبائلی اور دیسی آبادی کے کنونشن، 1957 کو منظور کیا.

·   آئین کے آرٹیکل 25 کا کہنا ہے کہ تمام شہری قانون کے سامنے برابر ہیں اور قانون کےتحت مساوی تحفظ کے اہل ہیں. یہ کہ ہر شہری کو کسی بھی قانونی پیشے یا وسیلہ روزگار اختیار کرنے کا حق حاصل ہے، اوروہ کسی بھی قانونی تجارت یا کاروبار میں داخل ہو سکتا ہے۔ اس کے علاوہ، آئین کے آرٹیکل 24 کے تحت کسی بھی شخص کو کو ماسوائے قانونی کاروائ کے اپنی جائیداد سے محروم نہیں کیا جائےگا۔

·   خیبر پختونخواہ کا فاریسٹ آرڈیننس، 2002 مقامی لوگوں کی اقتصادی، سماجی اور ماحولیاتی خوشحالی کو فروغ دینے کے لئے تیار کیا گیاہے.

تحفظ چہارم

‘ اس فیصلے کے پیراگراف 70 اور 72 میں درج اقدامات میں متعلقہ اسٹیک ہولڈرز خاص طور پر دیسی باشندوں اور مقامی آبادی کی مکمل اور مؤثر شراکت شامل ہیں’۔

+UNFCCC REDD  تحفظ چہارم کے بارے میں پاکستان کی وضاحت: متعلقہ مقامی کمیونٹی اور کمزور گروپوں کا حصہ لینے کا حق نیشنل +REDD حکمت عملی کے تحت ملک کے متعلقہ PLRs کے ذریعے تسلیم کیا اور فروغ دیا جاتا ہے، جس میں آزادانہ، پہلے سے حاصل شدہ اور مطلع رضامندی کے حق کا فروغ شامل ہے.

متعلقہ PLRs جو +REDD تحفظات پرعملدرآمد کو یقینی بنانے کے لئے استعمال کیے جاسکتے ہیں۔

· 1997 کا ماحولیاتی تحفظ ایکٹ حکم دیتا ہے کہ ماحولیاتی اثرات کا تشخیص عوام کی شمولیت کے ساتھ کی جائے.

·  متعلقہ صوبائی PLRs جیسے خیبر پختون خواہ آرڈیننس جنگلات کے انتظام میں مقامی کمیونٹی کی مؤثر شراکت اور جنگلوں اور بیابانوں کی پائیدار ترقی میں گاؤں کی کمیونٹی اور دلچسپی رکھنے والی جماعتوں کی شمولیت کو سہولت فراہم کرتے ہیں۔

·   صوبائی حکومت کیلیے جنگلات اور بیابانوں کی پائیدار ترقی میں گاؤں کی آبادی اور دلچسپی رکھنے والی جماعتوں کی شمولیت کو بھی سہولت دینا اور جنگلات کی کٹائ سے متاثرہ علاقوں کی بحالی کیلیے کمیونٹی خاص طور پرایسی جگہوں کے مالکان، حقوق رکھنے والے افراد، صارفین اور خواتین کی شمولیت اور مدد کو یقینی بنانا ضروری ہے.

تحفظ پنجم

‘یہ کہ اقدامات قدرتی جنگلات اور حیاتیاتی تنوع کے تحفظ کے مطابق ہیں اور اس بات کو یقینی بنایا گیا ہے کہ اس فیصلے کے پیراگراف 70 میں میں مذکورہ اقدامات کوقدرتی جنگلات کی تبدیلی کے لئے استعمال نہیں کیا جاتا بلکہ قدرتی جنگلات کے تحفظ اور نگرانی کی حوصلہ افزائی کرنےاور ان کی ماحولیاتی خدمات، اور دیگر سماجی اور ماحولیاتی فوائد کو بڑھانے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔’

+UNFCCC REDD  تحفظ پنجم کے بارے میں پاکستان کی وضاحت: “قومی +REDD حکمت عملی کے تحت +REDD سرگرمیوں سے قدرتی جنگلات اور حیاتاتی تنوع اور سماجی اور ماحولیاتی فوائدکو فروغ ملےگا اور متعلقہ PLRs کے مطابق، ملکی قدرتی جنگلات کو تبدیل نہیں کیا جاےگا”۔

متعلقہ PLRs جو +REDD  تحفظات پرعملدرآمد کو یقینی بنانے کے لئے استعمال کیے جاسکتے ہیں۔

·   فاریسٹ ایکٹ، 1927 کا سیکشن 34-اے +REDD سرگرمیوں کی رہنمائ فراہم کرے گا جس کے تحت حکومت محفوظ جنگل کی زمین کے استعمال میں تبدیلی کرنے کی اجازت نہیں دیگی، ماسوائے حق راہداری، سڑکوں کی تعمیر اور جنگلاتی پارک  بنانے کے مقاصد کیلیے، تاہم حکومت محفوظ جنگل میں کنکریٹ عمارت یا مستقل ساخت کی تعمیر کی اجازت نہیں دے گی.

·  CITESپر عملدرآمد کیلیے نافذ کردہ پاکستان جنگلی نباتات و حیوانات کی غیر قانونی تجارت کی روک تھام کا ایکٹ 2012 ، CITES ضمنیہ میں درج کردہ پرجاتیوں کی برآمد، دوبارہ برآمد اور درآمد کو کنٹرول کرتا ہے۔ اس میں جرمانہ اور / یا قید کی شکل میں سزائیں بھی تجویز کی گئ ہیں۔

تحفظ ششم و ہفتم

استرداد (Reversal) کے خطرات کو کم کرنےاور گیسوں کے اخراج (Emissions) کی منتقلی کو روکنے کے اقدامات۔

+UNFCCC REDD  تحفظ ششم و ہفتم کے بارے میں پاکستان کی وضاحت: تجویز کردہ +REDD اقدامات کے تحت استرداد اور گیسوں کے اخراج کی منتقلی کے خطرات کا مقابلہ MRV اور قومی جنگل کی نگرانی کے نظام کے ذریعے کیاگیا ہے.

متعلقہ PLRs جو +REDD تحفظات پرعملدرآمد کو یقینی بنانے کے لئے استعمال کیے جاسکتے ہیں۔
·   فاریسٹ ایکٹ نے صوبائی حکومتوں کو ایک نگرانی کمیٹی قائم کرنے کا اختیار دیا ہے، جو جنگلات کی افزائش کے منصوبوں کی نگرانی اور جانچ پڑتال کرے گی.